cartoon-1-1024x614

” ایک ایسی پارٹی جسے ماضی میں ریاستی عناصرنے مشق ستم بنائے رکھاآج کل غیر ریاستی عناصر کے رحم و کرم پر ہے”

پھر بھی پاکستان کے انتخابات 2013میں خوش آمدید۔

ہیرو ازم کا فیصلہ تاریخ کرتی ہے ۔ جب آپ ہیرو کے طور متحرک ہوتے ہیں آپ کی خدمات کو اکثر تسلیم نہیں کیا جاتا اور آپ کو وہ تعظیم نہیں دی جاتی جو آپ کا حق ہوتی ہے، مگر آگے چل کر آپ کی قربانیوں کو تسلیم کر لیا جاتا ہے کچھ ایسا ہی معاملہ عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ بھی ہے،سیاسی پارٹیاں انتخابات میں حصہ جیتنے کے لیے لیتی ہیں نہ کہ انہیں کسی نیک مقصد کے شہداء کے طور پر یادرکھا جائے۔

اس وقت پاکستان میں دوقسم کے انتخابات لڑے جا رہے ہیں، ایک الیکشن کانعرہ ”نیا پاکستان” ہے جب کہ دوسرا الیکشن وہ ہے جو عوامی نیشنل لڑرہی ہے جس کا مقصد بھی نیا پاکستان ہی ہے یعنی ریاست کو برقرار رکھنا ہے، وہی ریاست جو آج کل خطرات میں گھری ہوئی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی اب تک سینکڑوں کارکنوں اورعہدیداروں کی قربانی دے چکی ہے اور اس کی وجہ سے آنے والے انتخابات میں اس کی کارکردگی متاثرہوسکتی ہے کیونکہ اس نے اپنے بے شمار ایسے سپاہی کھو دیئے ہیں جو اس کو زیادہ متحرک رکھ سکتے تھے۔

ایک ایسی پارٹی جوماضی میںہمیشہ ریاستی عناصر کے عتاب کانشانہ رہی اب غیر ریاستی عناصر کے نشانے پر ہے جبکہ ریاست اس وقت انتخابات کو اپنے مخصوص مفادات کی نظر سے دیکھ رہی ہے، اور ایک ایسے کڑے وقت میں بھی اے این پی مزید قربانیوں اور ملک بچانے کے عزم کے ساتھ کھڑی ہے جہاں ہر پارٹی کو یہ محسوس کرنا چاہیے کہ وہ ملک بچانے میں بہت دیر ہو چکی ہے اور ہماری سیاست اور آزادی اب صرف تابوت کی منتظر ہے۔