Charsadha _ Image Source Citizenside

جانے کیوں۔۔۔۔۔ اچھا وقت پلک جھپکتے بیت جاتا ہے جبکہ بُرا ایڑھیاں رگڑتے ہوئے جاتے جاتے ہی جاتا ہے لیکن پچھلے پانچ سال ایسے تھے کہ ایک جانب پلک جھپکتے بیت گئے تو دوسری جانب پانچ دہائیوں پر محیط ہوتے بھی دکھائی دئیے، اور اس تضاد کی اپنی اپنی وجوہات ہیں، اگر اس لحاظ سے گزرے پانچ سالوں کاجائزہ لیا جائے کہ یہ ملکی تاریخ کی پہلی جمہوریت کے پانچ سال تھے تو پھر تو یہ یقیناً بہت جلد گزر گئے لیکن ان پانچ سال میں جس قسم کے مسائل سے عوام دو چار رہے اور دہشت گردی خون خشک کرتی رہی اس حساب سے یہ پانچ سال بہت بھاری اور طویل تھے موجودہ صورت حال یہ ہے کہ جمہوری حکومت کے پانچ سال تو بیت گئے لیکن مسائل و دہشت گردی کا دور دورہ آج بھی ہے۔ یہ تو ایک ہلکی سی تصویر تھی پورے خیبرپختوا کی، تاہم اس کے اہم ترین ضلع چارسدہ پر نگاہ ڈالی جائے تو صورت حال اس سے بھی بڑھ کر ابتر اور گنجلک ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی جو پچھلے پانچ سال تک حکومت میں رہی اپنے سکیولر اور روشن خیال نقطہ نظر کی وجہ سے دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہے،اس کے سینکڑوںکارکن قتل کیے گئے، اسفندیار ولی پر بھی خودکش حملہ ہوا لیکن خوش قسمتی سے وہ بچ گئے، اورآج کل انتخابات کی آمد آمد کے باوجود اے این پی کھل کرتحریک بھی نہیںچلاسکتی، صوبے کیا پورے ملک کی سیاست میںچارسدہ کاکلیدی کردار رہا ہے، مرکز و صوبے میں بننے والی حکومتوںمیں بھی یہاںکے سیاست دانوںکابہت عمل دخل ہوتا ہے، سیاسی لحاظ سے زرخیزاورترقیاتی کاموںکے حوالے سے پسماندہ اس ضلع میں جب بھی انتخابات کے لیے میدان سجتا تو سیاسی پہلوان کھل کر اکھاڑے میں اترتے، ڈنڈ بیٹھکیں لگاتے، حریف کو چاروں شانے چت کرتے اور عوام سے داد وصول کرتے لیکن اب کے حالات قطعی مختلف ہیں کیونکہ صوبے کی بڑی پارٹی اے این پی دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہے اور وہ اپنی سیاسی سرگرمیاںمحدود کرنے پرمجبورہے

ضلع چارسدہ کا الیکشن ہمیشہ سے سنسنی خیز رہا ہے، قومی میڈیا کے ساتھ ساتھ عالمی نظریں بھی یہاںکے انتخابات نتائج کی طرف رہتیں، اس وقت ضلع میںغیریقینی کی فضا کی وجہ سے اگرچہ سیاسی سرگرمیاںکسی حدتک چل رہی ہیں لیکن ویسی نہیں جیسی ماضی میں ہوا کرتی تھیں بہرحال عوامی نیشنل نے قومی وصوبائی پر الیکشن لڑنے والے سکواڈ کا اعلان کر دیا ہے جب کہ قومی وطن پارٹی بھی پوری طرح سے میدان میں ہے، جماعت اسلامی بھی اس بار قومی و صوبائی اسمبلی کے تمام حلقوںسے الیکشن لڑنے کے لیے متحرک ہے، اور امیدواروں کے ناموں کا اعلان بھی کرچکی ہے ، اس کے علاوہ تحریک انصاف،جمعیت علماء اسلام،مسلم لیگ (ن)، پی پی اور تحریک تحفظ پاکستان کے امیدوار بھی میدان میںہیں، لیکن سب سے سنسنی خیز مقابلے کی توقع این اے سات کے حوالے سے رکھی جارہی ہے کیونکہ اس حلقے سے اے این پی کے مرکزی صدراسفندیار ولی، جماعت اسلامی کے محمد ارشد خان، جمعیت علماء اسلام کے گوہر شاہ، قومی وطن پارٹی کے سکندرشیرپائو، پی ایم ایل این کے کلیم اکبردرانی، تحریک انصاف کے فضل محمد خان اور پی پی کے خانم اللہ سمیت پندرہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا، دو قومی اور چھ صوبائی نشستوں پر مقابلے کے لیے 499پولنگ سٹیشن اور 1558پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں،

خدائی خدمت گار تحریک کے بانی عبدالغفار خان المعروف باچاخان کا آبائی ضلع ہونے کی وجہ سے چارسدہ کو اے این پی کاگڑھ سمجھا جاتا ہے، اور یہاں ہمیشہ سے اے این پی کامیاب ہوتی رہی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور عوامی نیشنل پارٹی کی پالیسیوں میں تبدیلیوںکی وجہ سے دیگر پارٹیوں نے بھی یہاں پراپنی جگہ بنالی، بہرحال این اے سات ضلع کا سب سے اہم حلقہ ہے یہ تین صوبائی حلقوں، سترہ، اٹھارہ اور انیس پر بھی مشتمل ہے، جن میںضلع کی انچاس میں سے پچیس یونین کونسلیںشامل ہیں، اس حلقے میں چارسدہ کاشہری علاقہ، نستہ،پڑانگ،رجڑ، اتمانزئی، عمرزئی، ترنگزئی،سرڈھیری اور آس پاس کے دیہات شامل ہیں، ماضی میں این اے سات سے اے این پی کے رہبرتحریک مرحوم عبدالولی خان الیکشن میں حصہ لیتے تھے، اورقوم ان سے اس قدر محبت کرتی تھی کہ وہ گھر بیٹھے بیٹھے الیکشن جیت لیا کرتے تھے، 1990میں مولانا حسن جان کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد انہوں نے پارلیمانی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی، این اے سات پر ہونے والے انتخابات کا جائزہ لیا جائے تو تقریباً ہر دفعہ اے این پی کو سیاسی جماعتوں پرمشتمل گرینڈاتحاد کاسامنا رہا،1990کے انتخابات میں این اے پانچ، جو اب این اے سات بن گیا ہے پرتاریخی اپ سیٹ ہوا، جے یو آئی کے امیدوار مولانا حسن جان نے ولی خان کو شکست دے کر دنیا کو ورطہ حیرت میںڈال دیا، انہوں نے66452 ووٹ حاصل کیے تھے جبکہ ولی خان کو 52929 ووٹ ملے، اس سے قبل 1988کے الیکشن میں ولی خان نے مسلم لیگ کے امیدوار احسان اللہ خان کو شکست دی تھی، 1993میں یہاں سے اے این پی کے اسفندیار ولی کامیاب ہوئے ،1998میں بھی یہاں سے اسفندیار ولی کامیاب ہوئے،جبکہ 2002 میںایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے مولانا گوہر شاہ نے ان کو شکست دی تھی، اس الیکشن میں اے این پی تمام صوبائی وقومی حلقوں پرناکام ہو گئی تھی، تاہم 2008 کے عام انتخابات میں یہاں سے ایک بارپھر اے این پی کے اسفندیار ولی خان کامیاب ہوئے،2013 کے انتخابات کے موقع پر366989 ووٹر اپنا حق استعمال کریں گے، چارسدہ میں کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 684570ہے جن میں397056مرد اور158883خواتین ووٹرز شامل ہیں، اس وقت این اے سات کی صورت حال یہ ہے کہ یہاں اصل مقابلہ اسفندیار ولی،جماعت اسلامی کے ارشدخان اورجے یو آئی کے مولاناگوہرشاہ کے درمیان ہوگا، اگرچہ یہاں سے قومی وطن پارٹی کے سکندرشیرپائو بھی امیدوار ہیں لیکن ان کی زیادہ توجہ پی کے اکیس پر ہے کیونکہ وہ وہاں سے بھی الیکشن الیکشن لڑ رہے ہیں

ویسے تو ہر جگہ ہی دہشت گردی کا خطرہ رہتا ہے لیکن چونکہ چارسدہ کواے این پی کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اس لیے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیںکہ وہاں کوئی اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، اس لیے انتظامیہ نے ضلع چارسدہ کے لیے سکیورٹی پلان بنا لیا ہے اور کل 499 پولنگ سٹیشنوں میں سے 280 کو انتہائی حساس جبکہ 162 کو حساس قرار دیا گیا ہے، انتخابات کے پرامن انعقادکو یقینی بنانے کے لیے رینجرز اور فرنٹئر کور کی خدمات بھی حاصل کی جائیںگی۔

جب بھی دہشت گردی کا ذکر آتا ہے لوگوںکے ذہن میں اے این پی آ جاتی ہے کیونکہ اس کے عہدیداروں نے کافی قربانیاںدیں جس پر لوگ ان کے ساتھ ہمدردی بھی رکھتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی ہے کہ ضلع میں عوام کی ایک بڑی تعداد مسائل حل نہ کیے جانے پر اور کرپشن کے قصے سن سن کر اے این پی کو مشکوک نظروں سے بھی دیکھ رہی ہے اس لیے صرف یہ کہنا کہ ہمدردی کے ووٹ کے باعث اے این پی جیت جائے گی کچھ مشکل سا لگتا ہے کیونکہ 2008ء کے مقابلے میں اس بار تحریک انصاف اور جماعت اسلامی بھی میدان میں ہیں اور عوام میں کافی اثرورسوخ رکھتی ہیں۔