pre_pmgreetsa (4)

صدر زرادری اور میاں نواز شریف نے نئی تاریخ رقم کی یہ پاکستان کو بچانے اوراسے ترقی کی منزل کی طرف لے جانے کے تاریخی لمحات ہیں ۔ اب ہمیں سوئس بنکوں کے اکائونٹ کی بے مقصد بحث میں قوم کا وقت ضائع نہیں کرناہمیں فیصلہ کرنا ہو گا کہ نئی تاریخ رقم کرنی ہے یا تاریخ کے اوراق میں گم ہو نا ہے ، قمرالزمان بھٹی کا خصوصی تجزیہ


تاریخ کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو دہراتی ہے جبکہ تاریخ دان کا کام ہے کہ وہ تاریخ لکھے مگر ایک کام تاریخ بنانا ہے ۔ انسانی تاریخ میں وہ لوگ سب سے اہم رہے ہیں جو تاریخ بناتے ہیں ۔بلاشبہ پاکستان کی 66سالہ تاریخ میںیہ اہم ترین کارنامہ ہے کہ ووٹ کی طاقت سے بننے والے ملک نے پہلی بار اپنا پانچ سالہ جمہوری دور پورا کیا اور یہ بھی تاریخ بنی کہ ملک کا 15رواں منتخب صدر باعزت طریقے سے ایوان صدر سے رخصت ہوا ،اسے جاتے ہوئے ایوان وزیراعظم سے ایک ایسا الوداعی عیشائیہ دیا گیا ۔ یہ تقریب ایک تاریخی لمحہ بن گئی ۔ایوان وزیراعظم کی تقریب کو تاریخی بنانے والی صرف دو شخصیات ہیں ، ایک وزیراعظم میاں محمد نواز شریف ،جنہوں نے الودع ہونے والے صدر مملکت کے اعزاز میں اپنے گھر میں ضیافت کا اہتمام کیا ،دوسرے تاریخ ساز صدر آصف علی زرداری ہیں جن کی مفاہمتی پالیسی پر صرف اتنا کہا جاسکتا ہے کہ” مفاہمت جیت گئی” ۔ مبصرین وزیر اعظم کی تقریر کو شاندار قرار دے رہے ہیں تو وہ صدر زرداری کے فی البدیہ خطاب کو بھی تاریخی کہنے پر مجبور ہیں ۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے جمہوریت کی بحالی کی مشترکہ جدوجہد ، میثاق جمہوریت کے حوالے سے لندن میں بی بی شہید سے ملاقات کی تقریب اور پھر ان کی شہادت کا ذکر چھڑ کر اس تقریب کو جذباتی تو بنایا مگر اس کے ساتھ الیکشن ،انتقال اقتداراور جمہوریت کے تسلسل کو صدر کی مفاہمتی پالیسی کا نتیجہ قرا ر دیا۔ میاں نواز شریف مسلم لیگ (ن) کے سربراہ بھی ہیں ،ان کے اس خطاب کو مسلم لیگ(ن) کی پالیسی بھی قرار دیا جارہا ہے ۔ اس تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک ایسی جماعت جو ماضی قریب میں اسی صدر پاکستان کے بارے میں کچھ مثبت خیالات نہیں رکھتی تھی وہ اور اس کی پوری قیادت صدر زرداری کی مفاہمتی پالیسی کی نہ صرف معترف ہوئی ہے بلکہ موجودہ جمہوریت کو اس کا ثمر قرار دینے پر بھی مجبور ہوئی ہے ۔


کوئی اسے تاریخ کا جبر سمجھے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کے خوشگوار ترین لمحات ہیں ۔یہ پاکستان کو بچانے اور ایک نئے پاکستان کی تعمیر کے لمحات ہیں ،یہ خوشگوار لمحے آنے والے ماہ وسال میں ایک روشن ،ترقی یافتہ پاکستان کی بنیاد بن سکتے ہیںمگر اس منزل کی پیٹری صرف مفاہمت ہے ۔صدر زرداری کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ پاکستان کو کئی طرح کے خطرات کا سامنا ہے ،مصر اور شام کی طرح پاکستان کو بھی ایسے حالات درپیش آسکتے ہیں مگر تب ہم ان خطرات سے نمٹ سے سکیں گے اگر ہم اندر سے مضبوط ہوں گے ، ہم میں بھائی چارہ اور مفاہمت ہو گی، ایک دوسرے کیلئے برداشت کا جذبہ ہو گا۔ صدر زرداری کی یہ بات بھی حوصلہ افزا تھی کہ وہ پانچ سال سیاست نہیں کریں گے بلکہ اس حکومت کو پانچ سال پورے کروائیں گے ،میاں نواز شریف کی زیر قیادت پاکستان کی ترقی کیلئے کام کریں گے اور الیکشن ہونے کے اعلان کے بعد سیاست کیلئے میدان میں اتریں گے۔ انہوں نے پاکستان کی جمہوریت پر حملوں اور ماضی میں ایوان وزیراعظم کے اندر اپنی اہلیہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور اپنے بچوں کی گرفتاری کے تلخ لمحات کو اپنی طاقت سے تعبیر کیا ۔ بلا شبہ ہر جدوجہد زندہ قوموں کی طاقت ہوتی ہے ،یہ اس کی اگلی نسلوں کو کھڑا کرتی ہے اور ترقی کے سفر پر تیز تر دوڑنے کی ہمت اور حوصلہ پیدا کرتی ہے۔مجھے صرف اتنا کہنا ہے کہ ہمیں بھی آگے بڑھنا ہے ،ایک تاریخ رقم کرنی ہے اور مفاہت کو اپنی طاقت بنا کر ثابت کرنا ہے کہ زندہ قومیں سیاسی چپقلش سے نکل کر تیز تر ترقی ہیں اور خوشحالی ان کا مقدر ہوتی ہے۔ ایسے میں یہ سوال بے معنی ہو گئے ہیں کہ کوئی آنے والے دنوں میں(ن) لیگ کا کوئی لیڈر بجلی کے بحران کا ذمہ ماضی کی حکومت پر ڈال کر اس سے رفو چکر ہو سکے گایا اب پھر سوئس بنکوں کے اکائونٹ کی بے مقصدبحث میں الجھا کر قوم کا وقت ضائع کیا جائے گا۔مگر ایسا سب نہ ہوا ،الزامات کی سیاست کا پھر دور شروع ہو ،سیاسی کشیدگی کو ہوا دی گئی،ٹکرائو کو سیاسی بقا کا ذریعہ سمجھا گیا تو پھر پاکستان بچانے کا آخری موقع بھی ہم ضائع کر دیں گے اور پھر ”چراغوں میں روشنی نہ رہی ”کے مصداق اندھیرے ہمارا مقدر ہوں ۔اب یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ ہم نے تاریخ کے اورق میں گم ہونا ہے یا ایک نئی تاریخ رقم کرنی ہے۔