337423_10150496757794896_1290727041_o

یہ جان کر خوشی ہوئی کہ پاکستان میں الیکشن مہم پاک بھارت دوستی کے نعرے پر لڑی گئی ، پاکستانی سیاستدانوں میں زیادہ میچورتی آگئی ہے دوسری طرف بھارت میں جنگی جنون کو ہوا دی جاتی ہے جسے اب ختم کرنا ہوگا۔امن کا قائل ہوں ،دونوں ملکوں کو اپنے وسائل عوام کی ترقی پر خرچ کرنا ہوں گے ۔چنڈی گڑھ ٹیلی گراف کے خصوصی نمائندے گجندر سنگھ کی لاہور آمد پر نمائندہ” پاک ووٹس ”سے خصوصی گفتگو


پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی نئی بات نہیں ہے، تقسیم ہند سے لے کر آج تک دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کی کوئی نہ کوئی شکل موجود رہی ہے ۔ کشیدگی کی یہ صورت کبھی زیادہ بڑھی تو معاملہ جنگ تک بھی جا پہنچا، 1948ء میں کشمیر کے محاذ پر پاک بھارت جنگ سے لے کر 1965ئ،1971ء اور 1999ء میں کارگل کے محاذوں پر جنگیں اس کا ثبوت ہیں ، ایل او سی پر حالیہ کشیدگی کے واقعات اس جنگی جنون کے عکاس ہیں۔ بھارتی میڈیا اسے آئندہ سال ہونے والے الیکشن مہم کا حصہ قرار دے رہا ہے ۔ اسے پاکستان اور بھارت کے عوام کی خوش قسمتی ہی کہا جاسکتا ہے کہ جنگ کو ہوا دینے کے ماحول میں بھی دونوں ملکوں میں ایسا طبقہ موجود ہے جو امن، ترقی، خطے میں خوش حالی اور دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کی بات کرتا ہے ۔ بھارت میں جہاں میڈیا جنگی جنون کو ہوا دے رہا ہے وہاں میڈیا کے نمائندوں پر مشتمل ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو امن کے فروغ میں جتے ہوئے ہیں ۔ صحافیوںکے کئی گروپ لاہور پریس کلب اور چنڈی گڑھ پریس کلب کی صورت میں گزشتہ کچھ سالوں سے اس کام کو آگے بڑھا رہے ہیں جبکہ سائوتھ ایشیاء فری میڈیا (سیفما) کے زیر قیادت بھی دونوں ملکوں کے مابین دوستی کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔ ”رل مل روٹی کھایئے ،امن دے دیوے بالیئے” کے نعرے پر گزشتہ کئی سال سے دونوں ملکوں کے صحافی 14 اور 15اگست کو پاکستان اور ہندوستان کے یوم آزادی کو اٹاری اور واہگہ باڈر پر اکھٹے مناتے ہیں ۔ اس سال بھی اگرچہ بھارت سے کچھ صحافی جشن آزدی کی مبارک باد دینے کے لئے پاکستان آئے لیکن سیکورٹی وجوہات کے باعث پاکستانی صحافیوں کو بھارت جانے کی اجازت نہ مل سکی۔ اس موقع پر بھارت سے آنے والے وفد کے ایک صحافی گجندر سنگھ سے نمائندہ “پاکووٹس” نے خصوصی انٹرویو کیا، جو پیش خدمت ہے ۔

گجندر سنگھ نے بتایا کہ وہ بھارت میں ”ٹیلی گراف” کیلئے خدمات انجام دیتے ہیں اور پاکستان اور بھارت کے مابین امن کے فروغ کے خواہاں ہیں، اسی مقصد کیلئے وہ ایک مرتبہ چنڈی گڑھ پریس کلب اور دو بار سیفما کے توسط سے پاکستان آچکے ہیں ۔ اس بار بھی ان کا دورہ بھرپور تھا پاکستان نے بھارتی وفد کے 49 ارکان کو ویزہ دیا مگر جنگی جنون کی وجہ سے وہ محض 12لوگ ہی پاکستان آسکے ۔ پاکستان آمد کے موقع پربھارتی بارڈر پر لوگ خاصے غصے میں تھے لائن آف کنٹرول پر 5 بھارتی فوجیوںکی ہلاکت کے واقعہ کو بھارتی میڈیا میں خاصی ہوا دی گئی ہے۔ گجندر سنگھ کا کہنا تھا کہ بھارتی سیاستدان اس واقعہ کو آئندہ سال ہونے والے الیکشن میں انتخابی مہم کے طور پر استعمال کرناچاہتے ہیں ۔ بی جے پی کی قیادت کے رویہ نے کانگرس کو عوام میں خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں پاکستان کے سیاستدانوں میں زیادہ میچورتی آگئی ہے ، مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ پاکستان کے الیکشن میں یہاں کی بڑی سیاسی جماعتوں پاکستان مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی، سلم لیگ (ق)، تحریک انصاف، اے این پی ،ایم کیو ایم اور جمعیت علماء اسلام سمیت سبھی جماعتوں کے منشور میں پاک ،بھارت دوستی کو نعرہ لگایا گیا مگر دوسری طرف بھارت میں ابھی یہ صورت پیدا نہیں ہوئی ، وہاں آج بھی الیکشن سمیت کئی حوالوں سے پاکستان دشمنی کو ہوا دے کر اپنے معاملات سیدھے کیے جاتے ہیں ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں امن کا قائل ہوں اور سمجھتا ہوں کہ دونوں ملکوں کے حکمرانوں کو اب اپنے وسائل اپنے عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے خرچ کرنا چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ بھارت میں اور شاید کسی حد تک پاکستان میں بھی لوگ فٹ پاتھ پر زندگی گزارتے ہیں ، پاکستان کی آبادی اگر 20کروڑ ہے تو بھارت میں 20کروڑ لوگ ہی بے گھر ہیں ، لوگوں کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں، بیماریاں ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں ، آخر ہم نے دشمنی اور جنگ سے کیا ہے ۔ مجھے تو پاک بھارت دوستی اور پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگا کر خوشی ہوتی ہے اور اسی لیے پاکستان آیا ہوں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ پاکستانی سیمنٹ سے بھارت نے تعمیر ہونا ہے ۔ پاکستان سے سیمنٹ نہ جائے تو بھارت کی ترقی رک جائے ، بھارت کے بلڈرز بھی یہی چاہتے ہیں، عوام میں بھی دوستی کاجذبہ موجود ہے۔ ہم پاکستان کی چینی کھاتے ہیں، سبزی ، پیاز بھی منگواتے ہیں جبکہ کچھ چیزیں بھارت سے پاکستانیوں کے لیے بھی آتی ہیں۔ گجندر سنگھ کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے سیاستدانوں کو مل بیٹھ کر مذاکرات سے اپنے مسائل حل کرنا ہوں گے ۔


گجندر سنگھ کا کہنا ہے کہ اب دونوں ملکوں کی سیکورٹی اور خفیہ ایجنسیوں کو اپنے اپنے کردار پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے ،ایک دوسرے کے ملکوں میں اگر کسی بھی سطح مداخلت کا کوئی سلسلہ ہے تو اسے بند ہونا چاہے ۔