Open-Ballot-Box

پاک ووٹس ایک بار پھر اپنی انفرادیت کے ساتھ ساتھ وہ روایت بھی برقرار رکھنے میں کامیاب رہا جو چند ماہ پیش تر عام انتخابات کے موقع پر قائم کی تھی، پاک ووٹس نے صرف خبر یا معلومات ہی نہیں دیں بلکہ اس کے اندر چھپے معاملات، پہلوئوں، ضروری نکات اور ان سے جڑی جزویات تک کو اس شکل میں عام آدمی کے سامنے رکھا کہ اس کی سوچ کے کواڑ دھڑ دھڑا اٹھے اور اس کی اپروچ نے ایسی کروٹ لی کہ وہ سیاسی دائو پیچ جو کبھی ووٹر کے اوپر سے گزر جایا کرتے تھے اب کے ہتھیلی پر دکھائی دئیے۔


پاک ووٹس ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو خبر تو دیتا ہے مگر وہ خبر، جسے دوسرے ذرائع کسی وجہ سے نشر نہیں کرتے یا چھاپتے نہیں اور اصل خبر ہوتی ہی وہی ہے، اسی لیے پاک ووٹس نے ایسی خبریں ڈھونڈ نکالنے لے لیے ایک مضبوط اور مربوط سیٹ اپ بنایا، اعلی تعلیم یافتہ اور ماہر لوگوں پر مشتمل ٹیم بنائی گئی، تقریبا تمام ہی علاقوں سے فیلڈ مانیٹر لیے گئے انہیں کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور خاص طور پر سوشل میڈیا کی ٹریننگ دی گئی اور انہیں ایسی اشیا اور آلات مہیا کیے گئے جن کی مدد سے وہ کسی بھی علاقے سے کسی بھی وقت کوئی اہم اطلاع پہنچا سکتے ہیں، ویسے تو ایسے بے شمار ایشوز اور واقعات ہیں جن کا کریڈٹ پاک ووٹس کا اثاثہ ہے تاہم یہاں 22 اگست کو ملک کے 41 حلقوں پر ہونے والے ضمنی انتخابات کے حوالے سے ایک دو نکات پر بات ”ستائش کی تمنا ہے نہ صلے کی آرزو” بلکہ اپنی کاوشوں کو جانچ کے پلڑے میں ڈالنا ہے۔ انتخابات سے قبل پاک ووٹس نے ایسی کئی خبریں، تصاویر اور ویڈیوز جاری کیں جن میں الیکشن کمشن کے ضابطہ اخلاق کی واضح خلاف ورزی دیکھی جا سکتی تھی اور وہ بھی ان علاقوں کی، جہاں تک میڈیا کا اگلے کئی سال تک پہنچنا بھی مشکل دکھائی دیتا ہے، بہرحال بائیس اگست کو پاک ووٹس نے ان تمام امور و حالات کا جائزہ لینا شروع کیا جنہیں شروع سے ہی نظرانداز کیا جاتا رہا ہے، سب سے پہلے نوشہرہ کے حلقے این اے 5 کی جانب توجہ مبذول کرائی کیونکہ وہاں کوئی بھی خاتون ووٹ ڈالنے نہیں آ رہی تھی، اس بات کو نہ صرف اپنی ویب سائٹ پر ڈالا گیا بلکہ اپنے مانیٹرز کے ذریعے کے تحقیقات بھی شروع کی گئیں تھوڑی دیر بعد ہی یہ بات کھل کر سامنے آ گئی کہ ایک روز قبل ہی علاقے کے لوگوں نے معاہدہ کیا تھا کہ خواتین ووٹ نہیں ڈالیں گی۔ پاک ووٹس نے اس ایشو کو اٹھایا، پھر مردان کے حلقے پی کے 27 کے حوالے سے بھی ایسی باتیں سامنے آنا شروع ہوئیں، پاک ووٹس نے اس معاہدے کی کاپی بھی حاصل کر لی جو انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور ریٹرننگ افسران کے درمیان ہوا تھا اور ان کے دستخط بھی موجود تھے، کہ ”خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں ہو گی اور آئندہ اس حوالے سے کوئی قانونی کارروائی بھی نہیں کی جائے گی”، پاک ووٹس نے جیسے ہی اپنی سائٹ پر اس کی کاپی کا عکس ڈالا، تھرتھلی مچ گئی۔ پھر لکی مروت کے حلقہ این اے 27 میں بھی خواتین کے ووٹ پر پابندی کی خبریں سامنے آئیں، اور ان ساری باتوں کا اثر یہ ہوا کہ پشاور ہائیکورٹ نے این اے 5 اور این اے 27 کے نتائج روک دئیے اور ان افراد کو گرفتار کرنے کے احکامات جاری کیے جنہوں نے ایسے معاہدے کیے تھے، بہرحال انتخابات کے موقع پر ایسے امتیازی معاہدے ہونا کوئی نئی بات نہیں تاہم یہ بات ضرور نئی ہے کہ یہ نہ صرف منظر عام پر آئے بلکہ ان کے خلاف ایکشن بھی لیا گیا اور پاک ووٹس کے لیے یہ بات اطمینان کا باعث ہے کہ وہ اس نیک کام کا حصہ بنا اور لوگوں تک وہ سب کچھ پہنچایا جو جاننا ان کا حق ہے، پاک ووٹس کا ماننا ہے کہ جاننا تو سب کا حق ہے ہی، بولنا بھی سب کا حق ہے اس لیے پاک ووٹس نے ایسے کئی پروگرام بنائے اور پلیٹ فارم مہیا کیے جن کی بدولت عام لوگوں کی آواز ان ایوانوں تک پہنچی ہی نہیں گونجی بھی جنہیں صرف”خواص” کی ملکیت سمجھا جاتا رہا ہے۔


ویب سائٹ کے علاوہ پاک ووٹس نے ایس ایم ایس کے ذریعے اپنی آواز پہنچانے کا موقع بھی دیا تھا جس کا رسپانس بہت اچھا رہا، اب بھی کسی پاس کوئی خاص بات، خبر، خیال وغیرہ ہو جسے شئیر کرنا چاہے تو ہمارے صفحات اس کے لیے حاضر ہیں، اگرچہ پاک ووٹس کا فوکس انتخابات اور ضمنی انتخابات پر تھا لیکن کئی ایسے دوسرے ایشوز مثلاً تعلیم، خواتین کے مسائل و حقوق، بچوں کے حقوق، چائلڈ لیبر وغیرہ پر بھی کام کیا جا رہا ہے اور جلد ہی پاک ووٹس ان کے ضمن میں بھی انتخابات کی طرح سرخرو ٹھہرے گا۔