PAKISTAN-UNREST-POLITICS-VOTE

ملکی تاریخ کے سب بے بڑے ضمنی انتخابات ہو گزرے ہیں، 42 قومی و صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں سے41 پر پولنگ ہوئی کیونکہ این اے 25 پر انتخابات امن وامان کی غیر تسلی بخش صورت حال کے باعث ملتوی کر دیے گئے تھے۔ بہرحال انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) پہلے، پی پی دوسرے اور تحریک انصاف تیسرے پر رہی، کچھ اپ سیٹ بھی دیکھنے کو ملے لیکن یہ سب معمول کی باتیں ہیں اورکسی بھی الیکشن کے موقع پردیکھنے کو ملتی ہیں تاہم اب کے ایک بات اس ”معمول” سے ہٹ کر دکھائی دی جس میں ہر بار ہی کچھ علاقوں میں مختلف حربوں سے خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھا جاتا رہا ہے۔ انتخابات کے روز پاک ووٹس نے نہ صرف اس جانب توجہ مبذول کرائی بلکہ تصاویر اور فوٹیج کی شکل میں ٹھوس ثبوت بھی فراہم کیے اور شاید اسی کا اثر تھا کہ پشاور ہائیکورٹ نے نوٹس لیا اور دو حلقوں این اے 5 اوراین اے 27 کے نتائج روک دیے گئے۔


این اے 5 نوشہرہ کے علاقوں پر مشتمل ہے، اس کے بارے میں صبح کے وقت ہی یہ اطلاع جاری کر دی تھی کہ وہاں جرگہ ہوا ہے اور معاہدہ کیا گیا ہے کہ خواتین ووٹ پول نہیں کریں گی، اسی طرح این اے 27 جو لکی مروت میں ہے کے بارے میں بھی رپورٹ جاری کی اور ان دونوں کا ہائیکورٹ نے نوٹس لیا جبکہ مردان کے حلقے پی کے27 میں انتخابی سٹاف اور تینوں امیدواروں نے مل کر تحریری معاہدہ کیا تھا کہ خواتین کو ووٹ نہیں ڈالنے دیے جائیں گے اور اس پران کے دستخط بھی موجود تھے۔ پاک ووٹس نے نہ صرف اس کی رپورٹ بلکہ تحریری معاہدے کی تصویر بھی جاری کی اور کچھ ویڈیوز بھی ویب سائیٹ پر ڈالیں، جو بعدازاں نیوز چینلز نے اٹھائیں، اس وقت ایسا ہی لگ رہا تھا کہ پی کے27 کے نتائج بھی روک دیے جائیں گے تاہم ایسا نہیں ہوا، ہمارے خیال میں اس حلقے کے نتائج بھی روکے جانے چاہیے تھے کیونکہ وہاں صرف مردوں نے ووٹ کاسٹ کیے اور تقربیاً آدھے یعنی خواتین کے ووٹ پول ہی نہیں ہو سکے۔ بہرحال پاک ووٹس نے اپنی وہ روایت برقرار رکھی جو چند ماہ قبل عام انتخابات کے موقع پر قائم کی تھی، ہم نے معلومات اور نتائج دینے کے ساتھ ساتھ کئی ایسے اہم معاملات کی طرف اشارہ اور نشاندہی بھی کی جو عام طور پر سامنے نہیں آتے تھے۔


علاوہ ازیں جہاں تک این اے 25 کے ضمنی انتخابات ملتوی کیے جانے کی بات ہے تو اس کی ٹھوس وجہ بھی موجود ہے تاہم ایک تو ابھی تک اس کے لیے تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی کچھ ایسے اقدامات نظر آ رہے ہیں، جن سے ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقوں پر مشتمل اس حلقے کے حالات جلد تسلی بخش ہو سکیں۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ وہاں امن وامان کی صورت حال کو بہتر بنایا جائے اور ضمنی انتخابات کا انعقاد کیا جائے۔ اسی طرح جن حلقوں کے نتائج روکے گئے ہیں اس بارے بھی ابھی صورت حال واضح نہیں کہ پھر سے الیکشن ہوںگے، خواتین کو ووٹ ڈالنے کا موقع دیا جائے گا یا پھر کوئی اور طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ ہمارے خیال میں اس حوالے سے بھی متحرک ہوا جانا چاہیے، پشاور ہائیکورٹ نے جرگوں کے ذریعے خواتین کو ووٹوں سے باز رکھنے والے افراد کی گرفتاری کے احکامات بھی جاری کیے، تاہم ابھی تک ایسی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی کہ کسی کو گرفتار کیا گیا ہو۔


ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو تو لازمی طور پر منظر عام پر لایا جائے جن کے نزدیک عورت کی اہمیت اتنی بھی نہیں کہ اپنا جمہوری و قانونی حق استعمال کر سکے۔ ایسے عناصر کو سزائیں بھی دی جائیں، بہرحال ان تمام باتوںکے باوجود گزشتہ روز ہم نے بحیثیت قوم جمہوریت کا ایک اہم مرحلہ ضمنی الیکشن کی صورت میں طے کر لیا ہے امید کی جاتی ہے کہ جو خامیاں اور مسائل سامنے آئے ہیں ان پر قابو پایا جائے گا اور آنے والے دنوں میں جمہوریت مزید مضبوط ہو گی۔