Imran Khan leads rally to South-Waziristan

سب سے پہلے چک شہزاد۔
میڈیا کے مظالم، وکیلوں کے ہنگام، آدمی پکار اٹھتا ہے۔

بنی گالا کے محلے کی وہ پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاں، سامنے ٹال کے نکڑ پہ بٹیروں کے قصیدے،گڑگڑاتی ہوئی پان کی پیکوں میں وہ داد، وہ واہ واہ، چند دروازوں پہ لٹکے ہوئے خمیدہ سے کچھ مخمل کے پردے، ایک لڑکی کے ممیانے کی آواز اور دھندلائی ہوئی شام کے بے نور اندھیرے ایسے منہ جوڑ کے دیواروں سے چلتے ہیں یہاں چوڑی والان کے کٹڑے کی بڑی بی جیسے اپنی بجھتی ہوئی آنکھوں سے دروازے ٹٹولے۔اسی بے نوراندھیری سی گلی قاسم سے ایک ترتیب چراغوں کی شروع ہوتی ہے،ایک پرانے سخن کا صفحہ کھلتا ہے،کپتان بلاشبہ غالب کا پتہ ملتا ہے۔


جب گلی دریافت ہوچکی، کپتان بلاشبہ غالب کا پتہ بھی مل چکا تو اب بھی کیا میاں نوازشریف اب اس قوم کی قیادت فرماویں گے؟ کیا وہ جن کی اولادیں باہر ہیں، یہاں سیاست فرماویں گے؟ کیا اللہ غاصبوں کے ہاتھ نہ روکے گا؟ زندگی اپنے کالم پہ بسر کی جاتی ہے، دوسرے کی خبرپرنہیں۔ تعصب کا اسیر، آدمی لیکن غورکم کرتا ہے۔


تفکر آدمی کم کرتا ہے، طالب علم نے تاریخ پر جو سرسری نظر دوڑائی تو پایا کہ عباسی دور میں جب انتخابات ہوئے جیت کپتان ہی کی ہوئی۔ سرد جنگ میں بھی بے شک کپتان ہی غالب رہا۔ایران عراق جنگ برسوں پر محیط ہے، اہل دانش جانتے ہیں لیکن فتح نے کپتان کے قدم چومے۔ تفکر کے سبب تشفی پھر بھی نہ ہوئی سو بے چینی، بے کلی کے سبب طالب علم گوجرخاں کے بادشاہ کے ہاں حاضر ہوا، جوتیاں باہر اتار کر جیب میں رکھیں کہ حالات کا آدمی اعتبار کیسے کرے؟


درویش نے سر اٹھایا، آسمان پر دور سدر المنتہیٰ تک سرخ وسبز رنگ کے جھنڈوں کی قطار دکھائی دی۔ درویش نے سرجھکایا، کچھ استغراق اورگویا ہوا کہ دوکروڑ ووٹ کپتان کے لکھے جاچکے، جب چاہے لے لے۔


انتخابات میں لیکن جناب والا، ریکارڈ دھاندلی ہوئی، ایک ضعیف العمر آدمی کو الیکشن کی نگرانی سونپ دی گئی، بدیانتی کی انتہا یہ کہ کپتان کو بوقت تعیناتی، عمر بھی کم بتائی گئی۔ وہ تو بعد کو معلوم ہوا کہ بوڑھا آدمی کشتی نوح کے رنگ و روغن کا تجربہ بھی رکھتا تھا۔دوکروڑ ووٹ اس سبب نہ نکلے تو ن لیگ کے گماشتوں نے اڑا دی کہ درویش کی قریب اور دور کی نظر تو کمزور تھی ہی، اب غیب کی نظر بھی کمزور ہوگئی۔ سپہ سالار کی بات البتہ دوسری ہے اندازے کی غلطی ہو سکتی ہے لیکن صبح چار بجے اٹھ کر اجلی بنیان اور ہم رنگ زیر جامہ پہننے والا مگر وہ اجلا آدمی ہے۔


بنی گالا کے محلے کی وہ پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاں، سامنے ٹال کے نکڑ پہ بٹیروں کے قصیدے،گڑگڑاتی ہوئی پان کی پیکوں میں وہ داد، وہ واہ واہ، چند دروازوں پہ لٹکے ہوئے خمیدہ سے کچھ مخمل کے پردے، ایک لڑکی کے ممیانے کی آواز اور دھندلائی ہوئی شام کے بے نور اندھیریایسے منہ جوڑ کے دیواروں سے چلتے ہیں یہاں چوڑی والان کے کٹڑے کی بڑی بی جیسے اپنی بجھتی ہوئی آنکھوں سے دروازے ٹٹولے۔اسی بے نوراندھیری سی گلی قاسم سے ایک ترتیب چراغوں کی شروع ہوتی ہے، ایک پرانے سخن کا صفحہ کھلتا ہے،کپتان بلاشبہ غالب کا پتہ ملتا ہے۔


میڈیا کے مظالم، وکیلوں کے ہنگام، آدمی پکار اٹھتا ہے۔
سب سے پہلے چک شہزاد۔