131670886_111n

پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی تین اضافی نشستیں جیتیں ، بلور نے بھی میدان مار لیا،
پشاور اور میانوالی سے عمران کی نشستیں ہارنا پی ٹی آئی کیلئے الارمنگ ہے ۔ شہباز شریف ،ذوالفقار کھوسہ کی نشستیںکھو دینا (ن) لیگ کے لئے خطرناک ہے ،
وقت نے ثابت کیا کہ سندھ میں آج بھی” زندہ ہے بھٹو زندہ ہے” کا نعرہ مقبول ہے


ضمنی الیکشن کے نتائج نے کسی حد تک یہ ثابت کیا ہے کہ عوام اپنے 11مئی کے فیصلے پر یو ٹرن لینے پر مجبور ہوگئے ہیں ، پیپلز پارٹی اور اے این پی جو عام انتخابات میں عوامی نفرت اور غصہ کا شکار ہو کر رہ گئی تھیں،حالیہ ضمنی الیکشن میں یہ دونوں جماعتیں عوام میں اپنی مقبولیت ثابت کرنے میں کامیاب رہی ہیں ۔سانگھڑ اور ٹھٹھہ سے قومی اسمبلی کی دونوں نشستوں پر پیپلز پارٹی کی امیدوار شازیہ مری اور زیب النساء کی کامیابی نے ثابت کر دیا ہے کہ سندھ میں آج بھی ”زندہ ہے بھٹو زندہ ہے” کا نعرہ مقبول ہے سانگھڑکی این اے 235سے شازیہ مری نے مسلم لیگ (فنکشنل ) سے ہاری ہوئی سیٹ دوبارہ جیتی، اسی طرح مظفر گڑھ میںاین اے 177میں جمشید دستی کی خالی کردہ نشست پر پیپلز پارٹی کے امیدوار نور ربانی کھر نے کامیابی حاصل کی ۔ نور ربانی کھر سابق وزیر خارجہ کے والد ہیں اور انہوں نے جمشید دستی کے بھائی جاوید دستی کو شکست دی جبکہ پنجاب میںرحیم یار خان کی نشست پی پی 292سے پیپلز پارٹی کے مخدوم علی اکبراور اوکاڑہ میں مسلم لیگ (ن) کے معین وٹو کی خالی کردہ نشست پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو کے صاحبزادے میاں خرم جہانگیر وٹو نے جیتی ۔


اسی طرح پشاور این اے 1 سے اے این پی کے رہنما غلام احمد بلور نے پاکستان تحریک انصاف کے گل بادشاہ کو شکست دی ، غلام احمد بلور نے 34ہزار 386ووٹ لئے جبکہ ان کے مقابل پی ٹی آئی کے گل بادشاہ نے 28ہزار 911ووٹ حاصل کیے ۔ پشاور ون کے اس حلقے کے نتیجے کو اس لئے حیران کن اور اپ سیٹ پر مبنیٰ قرار دیا جا رہا ہے کہ عام انتخابات میں عمران خان نے غلام احمد بلور کو 60ہزار سے زائد ووٹوں سے ہرایا تھا ۔ اب ضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی، جمعیت علماء اسلام(ف) نے اعلانیہ طور پر جبکہ مسلم لیگ (ن) نے کسی حد تک غیر اعلانیہ طور پر حاجی غلام احمد بلور کا ساتھ دیا اور یہ نشست پی ٹی آئی سے چھین لی مگر پی ٹی آئی کیلئے اس سے بھی زیادہ تشویش ناک نتیجہ میانوالی کے حلقہ71 میں عمران خان کی دوسری خالی کردہ نشست کو کھو دینا ہے ۔یہاں (ن) لیگ کے امیدوار نے میدان مارا۔


عام انتخابات کے محض 75دن میں ہی پی ٹی آئی کا اپنی اہم نشستیں کھو دینا سیاسی مبصرین کیلئے نزدیک پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کیلئے الارمنگ ہے۔کچھ ایسی ہی الارمنگ صورتحال (ن) لیگ کیلئے بھی ہے کیونکہ اس نے بھی پنجاب سے اپنی تین اہم صوبائی نشستیں کھو دی ہیں جن میں راجن پور کی شہباز شریف کی خالی کردہ نشست اور ڈیرہ غازی خان میں سردار ذوالفقار علی خان کی نشست پر پی ٹی آئی کے امیدوار جیتے جبکہ اوکاڑہ کی نشست پیپلز پارٹی کے حصے میں آئی ۔ مسلم لیگ (ن) کے ترجمان اور رکن قومی اسمبلی احسن اقبال نے ان نتائج کو حوصلہ افزا قرار دیا ہے ۔انہوں نے کہا ،شہباز شریف اور ذوالفقار علی کھوسہ کی نشستوں پر شکست کی وجہ ٹکٹوں کی غلط تقسیم اور پارٹی اندورنی اختلافات ہو سکتی ہے جبکہ ان حلقوں سے ہٹ کر عوام کی عمومی رائے مسلم لیگ (ن) کے حق میں نظر آئی ہے ۔احسن اقبال کا کہنا تھا کہ 75دنوں میں (ن) لیگ کی قیادت نے بعض سخت فیصلے کیے ہیں جس کے باوجود عوام نے ان الیکشن میں (ن) لیگ کا ساتھ دیکر سپورٹ کیا ہے ۔


ان الیکشن میں اگرچہ دھاندلی کے حوالے سے شور اس طرح نہیں مچاجس طرح عام انتخابات میں ہر جماعت نے مچایا تھا مگر پھر بھی اکا دکا حلقوں میں دھاندلی کی
آوزیں بھی سننے کو ملی ہیں۔خصوصاً لاہور کے حلقہ پی پی 150میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار میاں مرغوب احمد کی کامیابی کے بارے میں پی ٹی آئی کے امیدوار مہر واجد عظیم اور ان کے حامیوں کا کہناہے کہ دھاندلی کی بنا پر ان کی جیتی ہوئی نشست چھینی گئی ہے ۔بہرحال اس ضمنی الیکشن میں الیکشن کمیشن کی کارکردگی کو قدرے بہتر قرار دیا جاسکتا ہے ۔اگر اسی طرح الیکشن کمیشن نے اپنی کارکردگی میں بہتری کا عمل جاری رکھا تو آنے والے الیکشن زیادہ شفاف ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ہم اپنے عوام کو ایک بہتر جمہوری ملک دے سکیںگے۔