pti jalsa

بہت سے دوست احباب مجھ سے یہ استفسار کرتے ہیں کہ میں نے عام انتخابات میں ایک نو آموز سیاسی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کو آزمانے کا فیصلہ کیوں کیا؟ میں ہمیشہ ان کو یہ کہہ کر ٹال دیتا ہوں کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی مایوس کن کارکردگی کے بعد ابھرتی ہوئی ایک نئی سیاسی قوت کو آزمانے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ لیکن جب ان کی میرے جواب سے کوئی تشفی نہیں ہوتی تو میں خاموشی میں عافیت جانتا ہوں۔ میں پورے وثوق سے ان پانچ وجوہات پر روشنی ڈال سکتا ہوں جن کی وجہ سے میں نے پاکستان تحریکِ انصاف کو ووٹ ڈالا۔ اگرچہ ووٹ ڈالنا میرا آئینی حق ہے لیکن اگر دوست احباب میرے اس انتخاب کی وجہ جاننا چاہتے ہوں تو میں اس پرروشنی ڈالنے کے لیے تیار ہوں تاکہ ان کی زبانوں کوتالے لگ سکیں:


١۔ پاکستان تحریکِ انصاف ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے تبدیلی کا نعرہ بلند کیا۔ آپ یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ اس تبدیلی سے کیا مراد تھی؟ کیا آپ کے خیال میں یہ تبدیلی نہیں کہ اب پنجاب میں قائدِ حزبِ اختلاف کا تعلق پیپلز پارٹی کے بجائے پاکستان تحریکِ انصاف سے ہے۔ اگر آپ کی اس پر بھی تسلی نہیں ہوئی تو یہی دیکھ لیجیے کہ پاکستان تحریکِ انصاف نے عام انتخابات میں صوبہ خیبرپختونخوا کے قوم پرست رہنما اسفند یار ولی کی سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کا صفایا کردیا۔ کیا یہ بھی تبدیلی نہیں ہے؟میرا خیال ہے کہ آپ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ اے این پی کا ماضی گواہ ہے کہ یہ ایک ملک دشمن جماعت ہے جس نے ہمیشہ قوم پرستی کا نعرہ بلند کیا اور افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ مل کر ملک کے خلاف سازشیں کرتی رہی، لیکن نوجوانوں نے تدبر کا مظاہرہ کیا اور عمران خان کوعام انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیاب کروا کرتبدیلی کی بنیاد رکھ دی۔ اس سے بڑی تبدیلی کیا ہوگی کہ اب خیبرپختونخوا میں اے این پی کے بجائے پاکستان تحریکِ انصاف برسرِاقتدار ہے اور پنجاب کے وزیرِ بلدیات رانا ثنا اللہ کے بقول صوبہ کے وزیراعلیٰ تیلی پہلوان خیبرپختونخوا کی ترقی کے لیے دن رات کوشاں رہتے ہیں۔ ان کو نہ راتوں کو آرام نصیب ہوتا ہے اور نہ ہی دن میں چین۔ میرا خیال ہے کہ آپ میرے اس استدلال پر حیران ہورہے ہوں گے۔ کیا آپ نے کبھی کوئی ایسا وزیراعلیٰ دیکھا ہے جس پر ہمہ وقت احتساب کی تلوار لٹک رہی ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ تاریخ میں ایسی کوئی مثال نہیں ملے گی۔ لیکن پاکستان تحریکِ انصاف نے تبدیلی کا جو نعرہ بلند کیا تھا، وہ اس پر پوری طرح عمل پیرا ہے اور صوبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلی پرویز خٹک ہر وقت اس دبائو کا شکار رہتے ہیں کہ کب تبدیلی کے نقیب عمران خان کی جانب سے ان کے غلط فیصلوں پربازپرس کرلی جائے۔


٢۔ عمران خان قومی سطح کے ان معدودے چند رہنمائوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے ڈرون حملوں کی کھل کر مذمت کی ، حتیٰ کہ ڈرون حملوں کو مار گرانے کا اعلان بھی کیا۔ اگر وہ امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری سے ملاقات کے لیے بے تاب تھے تو اس میں حیران ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ظاہر ہے ان کی جان کیری سے ملاقات کا مقصد پاکستان کی سرزمین پر ڈرون حملے رکوانا ہی تو تھا۔ امریکی وزیرِ خارجہ نے عمران خا ن کو ضرور یہ یقین دلایا ہوگا کہ وہ ڈرون آپریشن بند کروانے کے لیے امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات میں اس معاملے کو اٹھائیں گے۔ عمران خان اس سے زیادہ کر بھی کیا سکتے ہیں؟ لیکن اس کے باوجود عوام ان کی قیادت پر اعتماد کرنے پر تیار نہیں۔ ظاہر ہے کہ وڈیروں اور بنیوں کی سیاسی پارٹیوں کے لیے عمران خان کے سونامی کو ہضم کرنا مشکل ہورہا ہے۔ اب یہی دیکھیے کہ پنجاب اسمبلی میں پاکستان تحریکِ انصاف نے ڈرون حملوں کے خلاف قرارداد منظور کروانے کی بھرپور کوشش کی لیکن پنجاب کے وزیرِ بلدیات رانا ثنا اللہ المعروف سلطان راہی نے چلاتے ہوئے ڈرون حملوں کے خلاف قرارداد کو غیر ضروری قرار دے ڈالا۔ دیکھ لیجیے یہ تحریکِ انصاف ہی ہے جس نے ڈرون حملوں کے خلاف قبل ازیں پیش ہونے والی قراردادوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے ایک اور قرارداد لانے کا مطالبہ کیا۔ ان ڈرون حملوں میں اگربیت اللہ محسود اوردوسرے عسکریت پسند رہنما ہلاک ہوئے بھی ہیں توان کو پناہ دینے والے تو بے گناہ تھے۔ یہ عمران خان کی انسان دوست شخصیت کا ایک اور پہلو ہے جو بہت سے تجزیہ کاروں کی نظروں سے اوجھل رہا ہے۔


٣۔ دوست احباب حیران ہوتے ہیں جب میں یہ کہتا ہوں کہ طالبان ہمارے بھائی ہیں اوران کے ساتھ مذاکرات کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ افغان حکومت بھی تو آخر طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ میں مطمئن ہوں کہ میرا ووٹ رائیگاں نہیں گیا ، خیبرپختونخوا کے وزیراعلی پرویز خٹک نے میرے اس موقف کی تائید کرتے ہوئے طالبان کو بھائی قرار دے ڈالا اور کہا کہ مولانا فضل الرحمان، عمران خان کو یہودی ایجنٹ قرار دے کر صوبہ خیبرپختونخوا کی حکومت اور طالبان کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے لیے پرویز خٹک کی صوبائی حکومت برسرِاقتدار آنے کے بعد سے ہر آپشن پر غور کرتی رہی ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان جیل سے قیدیوں کو پروٹوکول کے ساتھ فرارکروایا گیا۔ میرے خیال میں یہ مفاہمتی پالیسی کی اعلیٰ و ارفع مثال ہے۔ آپ ضرور یہ پوچھیں گے کہ اگر طالبان بھائی ہیں تو وزیراعلی پرویز خٹک صوبہ میں بدامنی کی ذمہ داری بیرونی عناصر پرکیوں کرعاید کرتے ہیں؟ یہ ایک منطقی سوال ہے لیکن محترم دوستو! پرویز خٹک کا اشارہ جن بیرونی عناصر کی جانب ہے، وہ طالبان نہیں ہیں بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جن کا صوبہ کے وزیراعلیٰ نے باقاعدہ طبی معائنہ کروایا ہے جس کے نتائج کی روشنی میں وہ یہ دعویٰ کرتے ہیں۔ میرے خیال میں تنقید برائے تنقید کا رویہ ملک کے لیے مفید نہیں ہے۔


٤۔ پاکستان تحریکِ انصاف نوجوانوں کی واحد جماعت ہے۔آپ بجا فرماتے ہیں کہ عمران خان رواں برس 61 برس کے ہوجائیں گے لیکن جناب ایک سپورٹس مین کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ وہ ایک کھلاڑی ہیں، حتی کہ جب انہوں نے کرکٹ ورلڈ کپ کا ٹائٹل پاکستان کے نام کیا تو اس وقت بھی وہ زندگی کی 40 بہاریں دیکھ چکے تھے۔اس عمر میں بھی ان کے معاشقوں کی خبریں قومی و عالمی جرائد کے سرورق کی زینت بنتی رہیں۔ آپ ان کو موقع دے کر تو دیکھیے ، وہ عہد حاضر کے نوجوانوں سے زیادہ ”ہینڈ سم” اور ”گریس فل” ہیں اوراب بھی لاکھوں دلوں کی دھڑکن ہیں۔ وہ انتخابی سرگرمیوں میں مصروف رہنے کے باعث لندن نہیں جاسکے ، وگرنہ ان کے چہرے پر نمایاں ہونے والی جھڑیاں بھی نظر نہ آتیں۔ جاوید ہاشمی 65، شاہ محمود قریشی 57، پرویز خٹک 72 اور جہانگیر ترین 50برس کے ہوچکے ہیں۔ اب آپ ضرور یہ کہیں گے کہ یہ نوجوانوں کی جماعت کیسے ہوگئی؟ میرے بھائی ٹوئٹراورفیس بک پر پاکستان تحریکِ انصاف کو نوجوانوں نے کامیاب کروایا، جلسوں میں نوجوان شریک ہوئے، عمران خان کی تصویروں والی شرٹیں نوجوانوں نے زیبِ تن کیں۔ اگر اس کے باوجود بھی یہ نوجوانوں کی جماعت نہیں ہے تو پھر آپ کے کیا کہنے؟ پارٹی کی اعلیٰ قیادت بزرگوں کے ہاتھوں میں ضرور ہے لیکن انہوں نے رضاکارانہ طورپر نوجوانوں کی سیاسی تربیت کا بیڑہ اٹھایا ہے اور یہ پاکستان تحریکِ انصاف کا پاکستانی نوجوانوں پر سب سے بڑا احسان ہیں۔


٥۔ پاکستان تحریکِ انصاف کی اس خوبی کے تو آپ بھی معترف ہوں گے کہ پارٹی کے جلسوں میں شرکت سے ایک ٹکٹ میں دو مزے ہوجاتے ہیں۔ آپ موسیقی کی مدھر دھنوں سے سرور اٹھا سکتے ہیں اور وہ بھی بالکل مفت۔ میرے جیسا ایک مردم بیزار صحافی بھی پاکستان تحریکِ انصاف کے جلسوں میں شرکت کے لیے بے تاب رہا کرتا تھا۔ میری اب صرف ایک ہی خواہش ہے کہ پاکستان میں ہر برس انتخابات ہوں اورعمران خان اسی طرح جوش و خروش سے جلسے کرتے رہیں۔


میری ان گزارشات کے باوجود بھی اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان تحریکِ انصاف کا سونامی لانے کا وعدہ پورا نہیں ہوا ہے تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے۔ کیا ہوا جو سونامی نہیں آیا،دریائے چناب سے لے کر دریائے راوی تک لہریں جوش مار رہی ہیں۔ کراچی بھی برسوں بعد پانی میں ڈوب گیا۔ کیا آپ اسے بھی عمران خان کی کامیابی تسلیم نہیں کریں گے؟میرا خیال ہے آپ نِرے بدھو ہیں اور سیاست کے خروفِ ابجد سے ناواقف۔