1

کچھ حلقوں میں ضمنی انتخابات کے التوا کے حوالے سے جاری بحث الیکشن نے دو ٹوک طور پر یہ کہہ کر ختم کر دی ہے کہ ملک بھر کے 42 قومی و صوبائی حلقوں پر دو روز بعد یعنی بائیس اگست کو ہی ضمنی انتخابات ہوں گے اور کسی ایک حلقے میں بھی الیکشن ملتوی نہیں کیا جا رہا ، قبل ازیں سیلاب زدہ علاقوں میں انتخابات ملتوی کیے جانے کا امکان دکھائی دے رہا تھا اسی طرح الیکشن ڈیوٹی کرنے والے فوجی افسروں کو مجسٹریٹ درجہ اول کے اختیارات دے دئیے گئے ہیں، 4546 پولنگ سٹیشنوں پر فوج تعینات ہو گی جبکہ حساس ترین 1840پولنگ سٹیشنوں کے اندر بھی فوج ہو گی۔


اس میں کوئی شک نہیں کہ ضمنی انتخابات جمہوری نظام کا ایک اہم مرحلہ ہے اور ان کا انعقاد کسی بھی حلقے میں نشست چھوڑے جانے، منتخب رکن کی وفات، استعفیٰ دینے یا پھر نااہل قرار دئیے جانے کی صورت میں ہوتا ہے اور اس کا باقاعدہ طریقہ کار آئین میں موجود ہے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہنگامی حالات کی وجہ سے ان کو ملتوی کیے جانے کی چُھوٹ بھی موجود ہے اسی وجہ سے یہ خیال ظاہر کیا جا رہا تھا کہ جن علاقوں میں سیلابی کیفیت ، بدامنی یا کسی اور وجہ سے حالات سازگار نہیں وہاں شاید الیکشن ملتوی کر دیا جائے ان میں ڈیرہ اسماعیل خان اور جھل مگسی کے نام لیے جا رہے تھے کیونکہ ڈیرہ اسماعیل خان میں امن وامان کی صورت حال کو جواز بنایا جا رہا تھا اور پچھلے دنوں جیل پر ہونے والے دہشت گردوں کے حملے تناظر میں حالات کو دیکھا جا رہا تھا تاہم وہاں بھی انتخابات وقت پر ہی ہوں گے، اسی طرح جھل مگسی میں سیلابی کیفیت کے باعث لوگوں میں ابہام پایا جاتا تھا تاہم اس کے بارے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہاں صرف چار پولنگ سٹیشن سیلاب سے متاثر ہیں تاہم وہاں بھی انتخابات ہوں گے یعنی مجموعی طور پر تمام حلقوں پر ایک ہی روز انتخابات ہونے جا رہے ہیں اور ظاہر ہے یہ فیصلہ تمام معاملات، موجودہ صورت حال اور ممکنہ صورت حال کا جائزہ لیے جانے کے بعد ہی کیا گیا ہو گا، اس لیے ہم اسے غلط قرار دینے میں توانائی صرف نہیں کریں گے کیونکہ سبھی جانتے ہیں کہ ایک ہی روز انتخابات کراکے ان تمام اضافی اخراجات سے بچا جا سکتا ہے جو بعد میں انتخابات پر اٹھتے، تاہم ساری بات یہیں تک محدود نہیں ہے او کچھ معاملات ایسے ہیں جن پر بات ہو سکتی ہے۔


معلوم ہوا ہے کہ انٹیلی جنس ذرائع نے ڈیرہ اسماعیل خان میں ممکنہ دہشت گردی کے خطرات کے حوالے سے رپورٹ دی تھی جسے الیکشن کمیشن کی جانب سے مسترد کر دیا گیا ہے جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اور انتظامیہ ہرلحاظ سے معتمد اور مستعد ہیں، خدا نہ کرے کہ پولنگ کے روز کوئی دہشت گردی ہو تاہم یہ نکتہ ذہن میں رہے کہ ڈیرہ جیل پر حملے سے قبل بھی رپورٹ دی گئی تھی اور وہ ناخوش گوار واقعہ پھر بھی رونما ہو گیا تھا، اسی طرح آج کے اخبارات میں سیلاب کے حوالے سے کئی ایسی خبریں چھپی ہیں جو انتہائی تشویش ناک ہیں۔ بہرحال ہم یہ نہیں کہتے کہ ایسے علاقوں میں انتخابات ملتوی کیے جائیں تاہم یہ ضرور کہیں گے کہ ایسے انتظامات کیے جائیں کہ انتخابی عمل کسی صورت متاثر نہ ہو اور عوام کی طرف سے رائے کا اظہار کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ پڑے، امن وامان کی صورت حال کا ایک ثبوت تو کچھ پولنگ سٹیشنوں پر فوج کو تعینات کیے جانے کی صورت میں سامنے آ رہا ہے اس لیے مجموعی طور پر امن وامان کو برقرار رکھنا اور سیلاب زدہ علاقوں میں بھی پولنگ کے عمل کو درست طور پر آگے بڑھانا اور دھاندلی وغیرہ کی راہ روکے رکھنا ایسے چیلنجز ہیں جن سے نمٹے بنا چارہ نہیں، امید کی جاتی ہے کہ وطن عزیز میں پنپتی جمہوریت کا یہ اہم مرحلہ بھی خوش اسلوبی سے انجام پا جائے گا اور جمہوریت مزید مضبوط ہو گی۔