181482_63273691

22 اگست کو16 قومی اور26 صوبائی حلقوں پر انتخابات ہونے جا رہے ہیں جس کے لیے الیکشن کمشن نے ضابطۂ اخلاق جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق 31جولائی سے شروع اور19اگست تک جاری رہنے والی انتخابی مہم میں صدر، وزیراعظم،گورنرز، وزرائے اعلیٰ، وفاقی و صوبائی وزراء کسی امیدوار کے انتخابی جلسے یا ریلی سے خطاب نہیں کر سکیں گے، جن حلقوں میں انتخابات ہو رہے ہیں وہاں وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کی جانب سے کسی ترقیاتی کا اعلان یا سنگ بنیاد رکھنے پر پابندی ہو گی، سرکاری ذرائع استعمال نہیں کیے جا سکیں گے، مقررہ حد سے زیادہ اخراجات کا نوٹس لیا جائے گا اور کسی بھی خلاف ورزی پر امیدوار کے خلاف کارروائی ہو گی وغیرہ وغیرہ۔


اگرچہ یہ ضابطۂ اخلاق بعض لحاظ سے جامع دکھائی دیتا ہے تاہم بات یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی کیونکہ ضابطۂ اخلاق تو 11 مئی کو منعقدہ عام انتخابات کے موقع پر بھی جاری ہوا تھا لیکن سوال یہ ہے کہ عمل درآمد کس حد تک ہوا؟ جواب سب کو ہی معلوم ہے اور اس کے اثرات آج بھی بڑے بڑے ہورڈنگز اور دھاندلی کی شکایات کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ پچھلی بار ممانعت کے باوجود مذہب کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کیا گیا، بینرز وپوسٹرز پر ایسے جذباتی جملے استعمال کیے گئے جن کا مقصد کسی خاص طبقے کو ووٹ دینے یا نہ دینے کی ترغیب کے علاوہ کچھ نہیں تھا اور ایسے پوسٹرز آج بھی سوشل میڈیا پر دیکھے جا سکتے ہیں یہاں تک کہ کچھ مذہبی شخصیات کی جانب سے فتویٰ نما احکامات بھی سامنے آئے، ان کے علاوہ بھی بہت سے سیاسی ہتھکنڈے استعمال کیے گئے جن پر ضابطۂ اخلاق کے لحاظ سے پابندی تھی، بہرحال اب بھی اگر ماضی کے ان منفی نکات کو نگاہ میں رکھتے ہوئے ضمنی انتخابات کے لیے منصوبہ بندی کر لی جائے تو یہ بھی ان کا ایک مثبت پہلو ہو گا، ضمنی انتخابات کی تاریخ بتاتی ہے کہ زیادہ تر مقتدر پارٹیاں ہی جیتتی رہی ہیں جن پر اکثر سرکاری ذرائع استعمال کیے جانے کا الزام بھی لگتا رہا ہے، اس لیے الیکشن کمشن ہی نہیں بلکہ مقتدر پارٹیوں کے لیے بھی یہ بات کسی چیلنج سے کم نہیں کہ وہ کوئی ایسا موقع فراہم نہ ہونے دیں کیونکہ اس سے دونوںکی ہی ساکھ جڑی ہے۔


ضابطہ اخلاق انتہائی اہمیت کا حامل ہے اسے جمہوریت کی پہلی سیڑھی بھی قرار دیا جا سکتا ہے اس پر سو فیصد عملدرامد یقینی بنایا جانا چاہیے،جن حلقوں میں ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں ان کے لیے سروے ٹیمیں بنائی جائیں جو وہاں کے دورے کریں اور جہاں خلاف ورزی دیکھیں فوری نوٹس میں لائیں، اگر ایک خصوصی سیل بنا دیا جائے جہاں اس حوالے سے عام لوگ بھی شکایات بھجوا سکیں تو زیادہ بہتر ہو گا بلکہ اس کے لیے الیکشن کمشن کی ویب سائٹ پر ہی جگہ فراہم کر دی جائے تو مزید اچھا ہو سکتا ہے، علاوہ ازیں جو امیدوار خلاف ورزی کے مرتکب پائے جائیں ان کے خلاف کارروائی بھی کی جائے تاکہ دوسروں کے لیے عملی مثال بھی بن سکے، فخرالدین ابراہیم بھی الیکشن کمشنر کے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں اس سے جو خلا پیدا ہوا ہے اسے بھی جلد از جلد پُر کیا جائے، اسی طرح سکیورٹی پر بھی دھیان دیا جانا بہت ضروری ہے اس لیے ابھی سے متحرک ہوا جائے تاکہ انتخابات مکمل طور پر پُرامن اور شفاف ہوں اورجمہوریت مستحکم ہو