PAKISTAN-POLITICS-ELECTION-PRESIDENT

 

پاکستان مسلم لیگ ن کے ممنون حسین غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق بھاری اکثریت سے ملک کے 12 ویں صدر منتخب ہوگئے، ان کے مدمقابل پاکستان تحریک انصاف کے جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد تھے جبکہ پیپلز پارٹی، اے این پی اور ق لیگ نے پولنگ کا بائیکاٹ کیا۔ 30جولائی ہیونے والے صدارتی انتخاب میں قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے ارکان نے پولنگ میں حصہ لیا جس کے نتیجے میں مسلم لیگ نون کے امیدوار ممنون حسین نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔

ممنون حسن میاں برادران کے قریبی ساتھی کے طور پر اپنی شناخت رکھتے ہیں۔ وہ کبھی بھی میڈیا کے نگاہوں کے مرکز نہیں رہے، البتہ ان کی سیاست سے وابستگی خاصی طویل ہے۔ وہ 23 دسمبر 1940کو بھارت کے شہر آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ممنون حسین مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جو صوم و صلو کا پابند ہے۔ والد اور دادا جوتے کی صنعت سے وابستہ تھے، بھائی اور بہنوئی کپڑے کا کاروبار کرتے ہیں۔ انکے تین بیٹے ہیں، تینوں شادی شدہ ہیں۔ان کے تینوں بیٹوں کا تعلق بنکنگ کے شعبے سے ہے۔ ان کا ایک بیٹا سٹی بنک آف پاکستان کے ڈائریکٹر ہیں۔ ان کے دادا حاجی ظفر حسین اور والد حاجی اظہر حسین جوتے کی صنعت سے وابستہ تھے، وہ الگ الگ فیکٹریوں کے مالک تھے۔

 

قیام پاکستان کے بعد ممنون حسین کا خاندان 1949میں پاکستان منتقل ہوا۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ دینی اور دنیاوی تعلیم کی غرض سے ان کے والد حاجی اظہر حسین نے گھر میں تعلیم دلانے کیلئے عربی، انگریز فارسی، تاریخ، ریاضی، الجبرا اور خوش نویسی میں مہارت رکھنے والے بہترین اساتذہ کی خدمات حاصل کیں۔ دینی تعلیم کے باضابطہ حصول کیلئے 1953سے 1955 تک ڈھائی سال کے عرصے کیلئے مخزن عربیہ بحرالعلوم جو آج کل دارالعلوم نعیمیہ کراچی کے نام سے مشہور ہے، میں طالب علم کی حیثیت سے وابستگی اختیار کی۔ 1958میں پرائیویٹ حیثیت سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1963میں کراچی یونیورسٹی کے ماتحت گورنمنٹ کالج کامر س سے بی کام آنرز کی ڈگری حاصل کی۔ 1965میں انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ ایم بی اے کرنے کے بعد والد کے ساتھ جوتوں کے کاروبار میں شامل ہو گئے۔ بعدازاں اپنی فیکٹری قائم کی، جوتوں کی روس اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستوں میں ایکسپورٹ میں نمایاں رہے۔ کئی سال کے بعد جب ایکسپورٹ کا کام ختم ہوا تو 8 سال تک تازہ پھلوں اور سبزیوں کی ایکسپورٹ کا کام کیا۔ 1983میں ٹیکسٹائل کے کاروبار سے وابستہ ہوئے اور محدود پیمانے پر کپڑا تیار کرنے کی مل قائم کی۔ ان کی دو بہنیں اور پانچ بھائی جن میں سے ایک بہن اور تین بھائی حیات ہیں۔ بھائی اور بہنوئی کپڑے کی تجارت سے وابستہ ہیں۔

 

ممنون حسین 1970میں محمودہ کامل صاحبہ سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ مشترکہ فیملی کی صورت میںرہتے ہیں۔ ایک ساتھ جڑے ہوئے دو مکانوں میں سے ایک میں اپنی زوجہ، بیٹے، بہو کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں، دو بیٹے ساتھ ہی جڑے دوسرے مکان میں رہتے ہیں۔ ہفتہ اور اتوار کو تمام خاندان ایک ساتھ ملکر کر دن کا کھانا کھاتے ہیں۔

 

ممنون حسین کی سیاسی زندگی کو دیکھا جائے تو ممنون حسین پیدائشی طور پر مسلم لیگی ہیں، ان کے آبا اجداد میں قیام پاکستان کی جدوجہد میں بھر پور حصہ لیا۔ بعدازاں 1949میں ہجرت کر کے پاکستان منتقل ہو گئے۔ ایم بی اے کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد کاروبار کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ کی سیاسی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا شروع کردیا۔ ایک ادنیٰ سے کارکن کے درجے سے اپنی سیاست کا آغاز کرنے کے بعد 1967 میں مسلم لیگ کراچی کے اس وقت جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہوئے جب معروف سیاستدان اور سابق وزیر خارجہ زین نورانی کراچی مسلم لیگ کے صدر تھے۔ انہیں عملی سیاست میں لانے میں 60کی دہائی کے معروف سیاستدان اوراس دور کے رکن قومی اسمبلی عبدالخالق اللہ والا نے اہم کردار ادا کیا۔ انہی سے عملی سیاست کی تربیت لی۔ جماعتی اور ملکی سیاست کے ساتھ ساتھ انہوں نے تجارتی پیشے سے وابستہ ہونے کی وجہ سے کراچی چیمبر آف کامرس اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کی سیاست اور سرگرمیوں میں نہایت نمایاں کردار ادا کیا 15سال سرگرم عمل رہنے کے بعد 1999میں پہلی بار باضابطہ طور پر کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر منتخب ہوئے۔

 

ممنون حسین مسلم لیگ نون میں باقاعدہ طور پر اس وقت شمولیت اختیار کی جب 1993 میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان کے ہاتھوں برطرف ہونے کے بعد محمد نواز شریف خصوصی طور پر کراچی آئے۔ اس دوران ان کی محمد نوازشریف سے ملاقات ہوئی۔ 1997میں وزیر اعلی سندھ لیاقت علی جتوئی کے مشیر مقرر ہوئے اور 1999میں حکیم محمد سعید کی شہادت کے نتیجے میںحالات کی خربی اور بعد ازاں گورنر راج کے نفاذ تک وزیراعلی کے ساتھ اس عہدے پر اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ 17جون 1999کو اس وقت کے وزیر اعظم نوازشریف نے انہیں خصوصی طور پر اسلام آباد بلوایا اور سندھ کا گورنربنائے جانے کے فیصلے سے آگاہ کیا۔ 19جون 1997کو گورنر سندھ کا حلف اٹھایا اور 12 اکتوبر 1999کو فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے ہاتھوں مرکزی حکومت کی برطرفی کے ساتھ انہیں بھی اس عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ 12اکتوبر 1999کے روز وہ اس وقت کے صدر محمد رفیق تارڑ کے خصوصی بلاوے پر اسلام آباد ہی میں موجود تھے۔ ممنون حسین مسلم لیگ نون سندھ کے صوبائی جنرل سیکرٹری رہے۔ بعدازاں صدر کی حیثیت سے کام کیا۔