Ramesh Singh Arora first Pakistani Sikh member of assembly

قیام پاکستان سے قبل 1937ء کے انتخابات میں پنجاب اسمبلی میں سکھوں کو تقریباً بیس فی صد نمائندگی حاصل ہوئی تھی اور 1947ء کے بعد کسی پاکستانی سکھ شہری کو پنجاب اسمبلی کے راہداریوں تک پہنچنے کے لیے تقریباً 67 برس انتظار کرنا پڑا

پاکستان میں سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی تعداد بیس ہزار سے زائد ہے۔ حالیہ انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں سکھ ووٹرز کی تعداد 5934 ہے جن میں سے 3103 مرد اور 2831 خواتین ووٹرز ہیں۔
قیام پاکستان سے لے کر موجودہ دور تک پاکستان کو جہاں دیگر بے شمار مسائل کا سامنا رہا ان میں سے ایک اہم مسئلہ مذہبی اقلیتوں کی شناخت اور حکومتی سطح پر ان کی نمائندگی بھی رہا ہے۔ گیارہ مئی 2013ء کو منعقد ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ انتخابات کے بعد تشکیل پانے والی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کو ان کے لیے مخصوص کردہ نشستوں کے ذریعے پارلیمان میں نمائندگی دی گئی ہے، جن میں مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے کئی نئے چہرے میں بھی شامل ہیں۔ حالیہ انتخابات اس حوالے سے بھی قابل ذکر ہیں کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایک سکھ امیدوار صوبائی اسمبلی کا رکن بنا ہے۔
انتخابات سے قبل ہم نے دیکھا کہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے صوبائی اور قومی اسمبلی کی نشستوں کے لیے متعدد امیدواروں نے انتخابی عمل میں بھرپور حصہ لیا۔ ان میں پیش پیش سندھ سے امیدوار برائے قومی اسمبلی ویرو کوہلی تھیں جنہوں نے جاگیرداروں کے خلاف انتخابات میں حصہ لیا۔ انتخابات ہوئے تو ایک اور مثبت خبر شہ سرخیوں میں میڈیا کی زینت بنی کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک سکھ رکن صوبائی اسمبلی بنایا گیا ہے۔ قیام پاکستان سے قبل 1937ء کے انتخابات میں پنجاب اسمبلی میں سکھوں کو تقریباً بیس فی صد نمائندگی حاصل ہوئی تھی اور 1947ء کے بعد کسی پاکستانی سکھ شہری کو پنجاب اسمبلی کے راہداریوں تک پہنچنے کے لیے تقریباً 67 برس انتظار کرنا پڑا۔ حالیہ انتخابات کا کامیاب انعقاد، ایک جمہوری حکومت کی مدت پوری ہونا اور نئی حکومت کا قیام بلاشبہ پاکستان کے لیے ایک تاریخی موڑ تھا۔ جمہوریت کے پائیداری پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کے لیے بھی مثبت پیغام ہے کہ اس جمہوری عمل میں انہیں بھی اپنی آواز بلند کرنے کا بھرپور موقع فراہم ہوا ہے۔
مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے سردار رمیش سنگھ اروڑہ سکھوں کے مقدس مقام ، ضلع ننکانہ صاحب میں پیدا ہوئے اور آج کل ضلع نارووال کے قصبے کرتار پور میں سکونت رکھتے ہیں، کرتارپور سکھوں کے لیے ایک مقدس مقام کا درجہ رکھتا ہے کیونکہ بابا گرو نانک نے اپنی زندگی کے آخری سولہ برس یہیں بسر کیے تھے۔ اڑتیس سالہ سردار رمیش سنگھ نے پنجاب یونیورسٹی، لاہور سے بزنس ایڈمنسٹریشن سے ماسٹرز ڈگری حاصل کر رکھی ہے، وہ فلاحی و سماجی کاموں میں بھی پیش پیش رہے ہیں اور نارووال کے دیہی علاقوں میں غربت کے خاتمے کی کوششوں کے لیے کام کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سیکرٹری جنرل بھی ہیں اور نیشنل کمیشن فار مینارٹیز کے رکن بھی رہے ہیں۔ جب وہ پہلے روز لاہور میں پنجاب اسمبلی میں حلف برداری کی تقریب میں نارنجی رنگ کی روایتی پگڑی اور سفید کرتا زیب تن کیے پہنچے تو انہیں ارکان اسمبلی اور میڈیا کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔
حلف برداری کے تقریب کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے رمیش سنگھ اروڑہ کا کہنا تھا کہ 1947ء کے بعد سے اب تک وہ پہلے سکھ رکن صوبائی اسمبلی ہیں جس پر انہیں بہت خوشی ہے تاہم اس حوالے سے ان پر بڑی بھاری ذمے داری بھی عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”میں صرف سکھ برادری کا نمائندہ نہیں بلکہ تمام اقلیتوں کا نمائندہ ہوں۔” انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب میں ایک سو سے زائد گوردوارے محکمہ اوقاف کی غفلت کے باعث بند پڑے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ حکومت انہیں دوبارہ کھولنے کے لیے اقدامات کرے، انہوں نے امید ظاہر کی ہے حکومت اس حوالے سے ضرور اقدامات کرے گی۔
رمیش سنگھ اروڑہ نے صوبہ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں جاری شورش سے سکھوں کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصانات کے بارے میں بھی تشویش کا اظہار بھی کیا ہے، ان کے خیال میں سکھوں کے تاوان کے لیے اغوا کے رجحان کوسختی سے روکنے اور وہاں سکھوں کی حفاظت کے لیے موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ رمیش سنگھ اروڑہ پاکستان اور بھارت کے مابین بہتر تعلقات کے خواہاں بھی ہیں۔
جرمن نشریاتی ادارے کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں سردار رمیش سنگھ کا کہنا تھا پاکستان کے غیر مسلموں کو ہی نہیں بلکہ مسلمان شہریوں کو بھی بہتر میعار زندگی فراہم کرنے کے لیے بہت محنت کرنے کی ضرورت ہے، اگر بنیادی ضروریات ہی پوری نہ ہو سکیں تو خالی حقوق لے کر لوگ کیا کریں گے، ہمیں پاکستان کو خوشحال بنانا ہے اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دے کر دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند کرنا ہے۔ سردار رمیش سنگھ اس امر پر دکھ کا اظہار کرتے ہیں کہ پاکستان میں منہدم کرکے دوبارہ بنائے جانے والے کئی گوردواروں کی تعمیر میں ان کے اصلی تعمیراتی حسن کو نظر انداز کیا گیا۔ وہ اٹلی کی حکومت کے تعاون سے گوردواروں کے طرز تعمیر کو محفوط بنانے کے خواہاں ہیں۔
یہ ایک خوش آئند امر ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو رکن پنجاب اسمبلی کے طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ پاکستان میں اقلتیوں کے حقوق، تحفظ اور آزادی کے حوالے سے بے شمار مسائل پائے جاتے ہیں، جنہیں گاہے بہ گاہے عالمی سطح پر بھی اجاگر کیا جاتا رہا ہے۔ سردار رمیش سنگھ کا رکن پنجاب اسمبلی کے طور پر ابھر کر سامنے آنا ایک تاریخی موڑ ہے، وہ بین المذاہبی مکالمے کے حامی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس سے مذاہب کے درمیان پائی جانے والی دوریاں کم ہوں گی۔ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا معاشرے پر مثبت اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے امید کی جا سکتی ہے کہ سردار رمیش سنگھ پاکستان میں نہ صرف سکھوں بلکہ دیگر مذہبی اقلیتوں کے حقوق اور عبادت گاہوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مذہبی ہم آہنگی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔