budget

وفاقی اور صوبائی بجٹ کے اعلان کے بعد سے ہی پنجاب خصوصاً لاہور میں لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کے خلاف احتجاج شروع ہو چکے ہیں ۔ فیصل آباد میں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج پر پولیس کے لاٹھی چارج نے عوام میں (ن) لیگ کے خلاف نفرت میں اضافہ کیا ہے

” ہاڑ ہووے یا سیال مردا ہمیشہ غریب ای اے”، ”گندم کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے ” ”پانی ہمیشہ نیویں تھاں تے ای آندا اے” یا ” مرے کو مارے شاہ مدار ” یہ تمام ایسے محاورے ہیں جو ہمارے ملک کے غریب عوام کی بے بسی پر صادق نظر آتے ہیں ۔ 2013ء کے عام انتخابات کے بعدمسلم لیگ (ن) کی حکومت کے پہلے وفاقی اور پنجاب بجٹ کا جائزہ لیا جائے توتبدیلی کے خواہش مند عوام کی بے چارگی پر صرف اتنا ہی تبصرہ کیا جاسکتا ہے کہ ”آسمان سے گرا گجھور میں اٹکا” یا” غریبا ں رکھے روزے تے اووی لمبے ہو گئے”خیر کیا کریں ، اب عوام کو اپنے ووٹ کی ”طاقت” کو اپنے ہی خلاف پانچ سال کیلئے بھگتنا ہو گا۔ (ن) لیگ کی وفاقی حکومت کے پہلے بجٹ میں غریب عوام کیلئے مہنگائی کے سیلاب اور افرط زر کا ”تحفہ” تو موجود ہے مگر اس کے ساتھ مہنگائی سے دست بدست غریب عوام کی تنخواہوں میں محض 10فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ اب تنخواہ دار طبقہ اور عوام میں یہ سوچ پیدا ہو رہی ہے کہ ” آخر پیپلز پارٹی کی حکومت کا اس سے سوا قصور تھا کہ وہ عذاب ناک لوڈشیڈنگ کے مسلئے کو حل کرنے میں ناکام رہی” ورنہ پی پی حکومت نے تو اپنے پہلے بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں میں 50فیصد اضافہ کیا ، غذائی اجناس کے بحران کے خاتمے کیلئے گندم کی سپورٹ پرائس سوا 6سو سے بڑھا کر ساڑھے 9سو روپے مقررکی ، جس سے ملک کے غریب کسانوں کو بھی ریلیف ملا جبکہ پانچ سالوں میں ملازمین کی تنخواہوں میں مجموعی طور پر 120اضافہ ہوا ۔
پچھلے کچھ برسوں سے پاکستان کے عوام اس قدر جمہوریت پسند واقع ہوئے ہیں کہ انہوں نے جان لیوا لوڈ شیڈنگ اور بد ترین کرپشن چارجز کے باوجود بھی پیپلز پارٹی کو پورے پانچ سال حکومت کرنے کا موقع دیا ۔اس عرصہ میں ہمارے ہاں اس روایت نے بھی جنم لیا کہ پہلے 100دن حکومت کو کسی قسم کی تنقید اور احتجاج سے بالاتر ہو کر اپنی بنیادی پالیسوں کو مرتب کرنے کاموقع دیا جائے ، مگر اب اسے عوام کے صبر کے پیمانے کا لبریز کر جانا کہیں یا کچھ اور نام دیں مگر یہ حقیقیت ہے کہ وہی عوام جو چند روز قبل (ن) لیگ کو الیکشن میں جتوا کر حکومت میں لائی تھی اب وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ جمہوریت کی بساط لپیٹے بغیر اور (ن) لیگ کو مظلوم جماعت کہلوانے کو موقع دئیے بغیر اقتدار سے الگ کر دیا جائے ۔
وفاق کے بعد سندھ ، خیبر پختونخوا اور پنجاب اسمبلی میں صوبائی بجٹ پیش ہوچکے ہیں۔ ان تخمیہ جات میں منفرد بات یہی ہے کہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی جماعتوں یعنی پیپلز پارٹی نے سندھ میں اور تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا میں ملازمین کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافہ کیا ہے جبکہ وفاق اورپنجاب میں (ن) لیگ کی حکومت نے بمشکل عوامی احتجاج کے بعد محض 10فیصد تنخواہیں بڑھائی ہیں ۔پنجاب میں پیش کردہ 897 ارب 56کروڑ 93 لاکھ 11ہزار کے بجٹ میں تعلیم کے لئے 25ارب روپے جبکہ صحت کیلئے17ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔ اسی طرح عوام کو سستے آٹے کی فراہمی کیلئے 28ارب روپے دیئے گئے ہیں جبکہ رمضان پیکج کیلئے 5 ارب روپے جاری کیے گئے ۔اس بجٹ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ لاہور کے بعد راولپنڈی ، فیصل آباد اور ملتان میں میٹرو بس شروع کرنے کا اعلان کیا گیا جبکہ ملک کو در پیش لوڈ شیڈنگ کے بحران سے نمٹنے کے لئے 20 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے جو کہ پنجاب کے مجوعی بجٹ کا محض ایک فیصد بھی نہیں بنتی۔ جبکہ یہی صورتحال صحت اور تعلیم کے شعبے کی ہے ۔ سوشل سیکٹر کے یہ دو شعبے اس قدر نظر انداز کیے گئے ہیں کہ ان کا بجٹ پولیس سے بھی دو سے تین گنا کم رکھا گیا ہے جبکہ انرجی کرائسس کے حل کیلئے مختص رقم اگر چہ رواں مالی سال کے بجٹ سے دگنا ہے مگر ایک تو یہ کہ گزشتہ پانچ سالوں میں پنجاب میں انرجی سیکٹر کیلئے مختص رقم میں سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا گیا جبکہ اب مختص کردہ 20 ارب روپیہ سے محض چند سو میگا واٹ بجلی ہی پیدا ہو سکے گی ۔ یقیناً اتنی کم رقم کا انرجی سیکٹر میں لانا بجلی کے بحران کو ختم کرنے کے دعویدار حکمرانوں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔ پنجاب کے حالیہ بجٹ سے قبل جنوبی پنجاب کے عوام کی محرمیوں کا رونا جاری تھا ، موجودہ بجٹ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ رونا دھونا شائد آئندہ آنے والے سالوں میں بھی پسماندہ عوام کا مقدر بنا رہے ۔صوبے کے 290 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز میں سے جنوبی پنجاب کے عوام کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے محض 93 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جو کہ سینٹرل پنجاب سے 197ارب روپے زیادہ ہے ۔ یقینا اتنا برا فرق جنوبی پنجاب کے عوام میں مزید احساس محرومی بڑھنے کا باعث بنے گا۔اسی طرح سستی شہرت کے کچھ منصوبوں یعنی اجالا سکیم کیلئے ایک ارب روپیہ، آشیانہ سکیم کے لئے 3 ارب روپیہ جبکہ عوام کی بنیادی ضرورت یعنی صاف پانی کیلئے واٹر فلٹریشن پلانٹ لگانے کیلئے محض 10ارب روپیہ رکھے گئے ہیں۔
اسے (ن) لیگ کی قیادت کی ”سیاسی دانشمندی کہیں یا چالاکی” کہ اس نے گزشتہ الیکشن سے قبل اجالا سکیم ، یوتھ فیسٹول، لیپ ٹاپ سکیم میں محض 20 ارب روپے خرچ کر کے عوام، خصوصاً نوجوانوں اپنی طرف مائل کر لیا مگردوسری طرف یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ (ن) لیگ کا پہلا بجٹ ایک طرف مہنگائی کا سیلاب لانے کا باعث بن رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ سیلاب مستقبل میں (ن) لیگ کی حکومت کے خاتمے کا باعث بھی بن سکتا ہے ۔ قصہ مختصر اس وقت پنجاب میں (ن) لیگ کی مقبولیت کے گراف میں واضح کمی ہونا شروع ہو گئی ہے ۔ وفاقی اور صوبائی بجٹ کے اعلان کے بعد سے ہی پنجاب خصوصاً لاہور میں لوڈ شیڈنگ اور مہنگائی کے خلاف احتجاج شروع ہو چکے ہیں ۔ فیصل آباد میں لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج پر پولیس کے لاٹھی چارج نے عوام میں (ن) لیگ کے خلاف نفرت میں اضافہ کیا ہے۔ اسی طرح پنجاب کے بجٹ کے اگلے ہی دن کلرکوں کی نمائندہ تنظیم ایپکا نے لاہور پریس کلب کے باہر احتجاجی مظاہرہ کر کے یہ پیغام دے دیا ہے کہ ملازمین کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ نہ کر کے پنجاب حکومت نے عوام کے دلوں میں اپنے لئے نفرت کا بیج بو دیا ہے ۔ ایپکا کے کارکن پنجاب اسمبلی کے باہر دھرنا دینے اور گھیرائو کرنے کا اعلان بھی کر چکے ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ پنجاب حکومت اس احتجاج کو روک پاتی ہے یا یہ حکومت بھی عوامی غصہ اور نفرت کا شکار ہو کر نشان عبرت بن جائے گی۔